اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے نائب صدر نے ملک کے شمالی علاقے کُردستان میں ریفرنڈم کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی کردستان میں ہرگز دوسرا اسرائیل نہیں بننے دیں گے.
يہ بات 'نوري المالكي' نے گزشتہ روز بغداد ميں امريكي سفير 'ڈگلس اے. سلي مين' كے ساتھ ايك ملاقات ميں گفتگو كرتے ہوئے كہي.
اس موقع پر انہوں نے عراقي كردستان ميں ريفرنڈم كے انعقاد كي منسوخي يا اس كے معطلي پر زور ديا.
المالكي نے ايسے ريفرنڈم كو غيرقانوني قرار ديتے ہوئے اس بات پر زور ديا كہ ہم ہرگز شمالي عراق ميں ريفرنڈم كے انعقاد كے ذريعہ دوسرے اسرائيل كے قيام كي اجازت نہيں ديں گے كيونكہ ايسے اقدام عراقي قوم بالخصوص كردوں كا مفاد نہيں ہے.
انہوں نے عراقي سلامتي، اقتدار اور باہمي اتحاد پر ريفرنڈم كے خطرناك نتائج كي انتباہ كرتے ہوئے اور قوانين كے مطابق تمام مسائل كے حل كا مطالبہ كيا.
نائب عراقي صدر نے كرد راہنماوں سے ريفرنڈم كي منسوخي كے حوالے سے عراقي قوم كي درخواستوں اور عالمي موقف جو عوام كے مطالبات كے مطابق ہے احترام كرنے كا مطالبہ كيا.
عراقي وزير اعظم 'حيدر العبادي' نے ہفتہ كے روز اعلان كيا كہ اگر ريفرنڈم كے انعقاد پر تشدد ہوئے تو بغداد فوجي مداخلت كے لئے تيار ہے.
العبادي نے جمعہ كے روز اپنے ترك ہم منصب 'بينالي يلدرم' كے ساتھ ايك ملاقات ميں عراقي كرستان ميں ريفرنڈم كے انعقاد كي منسوخي كے لئے مشتركہ كوششوں پر اتفاق كيا.
ياد رہے كہ امريكہ نے ہفتہ كے روز اپنے ايك بيان ميں اعلان كيا كہ عراقي كرستان ميں ريفرنڈم كے انعقاد كي تصديق نہيں كرتا ہے.
ناجائز صہيوني رياست كے بغير دنيا كے تمام ممالك عراقي كرستان ميں ريفرنڈم كے انعقاد كي مخالفت كررہے ہيں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲